شیر کی کھال کے اسمگلر گرفتار
شیر کی کھال کے اسمگلر گرفتار
مانا جاتا ہےکہ ایک صدی پہلے ہندوستان میں 40،000 شیر تھے۔
پولیس نے ان افراد کو الہ آباد شہر میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 12 افراد شیر کی کھال بیچنے الہ آباد آئے تھے جبکہ خریدنے کے لیے چار اسمگلر وہاں پہنچے تھے۔

گرفتار ہونے والے افراد کے پاس سے شیر کی کھال، ہڈیاں اور بال برآمد ہو‎ئے ہیں۔

اترپردیش کے سینئر پولیس اہلکار امیتابھ یش کا کہنا ہے کہ پولیس نے گرفتار کیے جانے والے 16 افراد کے پاس سے چار شیروں کی کھال، 100 کلو گرام شیروں کی ہڈیاں اور بال برآمد کیے ہیں۔

ایک حالیہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میں شیروں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ جائزے کے مطابق ملک میں اس وقت 1500سے کم شیر ہیں۔ شیروں کی تعداد میں کمی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے شیروں کے تحفظ کے لیے ' ٹائیگر پروٹیکشن فورس' تشکیل دی ہے۔

ہندوستان میں شیروں کی تعداد جاننےکے لیے 2002 میں ایک اہم سروے ہوا تھا جس میں شیروں کی تعداد 3،642 بتائي گئی تھی۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شیروں کی گھٹتی تعداد کی وجہ غیر قانونی طریقے سے شکار اور جنگلوں کا خاتمہ ہونا ہے۔

اس برس مئی میں حکومت کی جانب سے کئے گئے ایک سروے میں پایا گیا تھا کہ ہندوستان میں شیروں کی تعداد جتنی سوچی گئی تھی اس سے کہیں کم ہے۔

وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بعض ریاستوں میں شیروں کی تعداد میں دو تہائی سے زيادہ کمی آئی ہے۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شیروں کی تعداد میں کمی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت غیرقانونی شکار اور اسمگلنگ پر روک لگانے میں ناکام رہی ہے۔

جانوروں کے تحفظ کے لیۓ کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چین شیر کی کھالوں کی سمگلنگ کا نیا مرکز بن گیا ہے۔

ان تنظیموں نے بتایا ہے کہ ہندوستان سے یہ سمگلنگ ہند نیپال سرحد کے راستے سے ہو رہی ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر سے اب تک 27 شیر اور 199 چیتوں کی کھالیں نیپال اور ہندوستان کے مختلف مقامات سے برآمد کی جا چکی ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق شیر کی کھالوں کی سمگلنگ گجروں کی مدد سے ہوتی ہے کیونکہ گجروں کو شیروں کی عادتوں کا پتہ ہوتا ہے اور وہ جال بچھا کر آسانی سے شیروں کو پکڑ لیتے ہیں۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ ایک صدی پہلے ہندوستان میں چالیس ہزار شیر تھے۔