’پابندیوں سے قبل رپورٹ پرغور کریں‘
’پابندیوں سے قبل رپورٹ پرغور کریں‘
’ ہم سب کو یہ بات سوچنی چاہیے کہ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں‘
چین کے سفیر وان گوینگ یا کا کہنا ہے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو ان نئی معلومات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کیونکہ’اب حالات بدل گئے ہیں‘۔

پیر کو سامنے آنے والی امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبہ پر کام سنہ 2003 میں روک دیا تھا۔ تاہم اس’مثبت‘ رپورٹ کے باوجود امریکہ اور مغربی ممالک ایران پر پابندیاں عائد کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا اس رپورٹ سے ایران پر پابندیوں کے تیسرے مرحلے کا امکان کم ہو گیا ہے، چینی سفیر نے کہا کہ’ میرے خیال میں سلامتی کونسل کو اس بات پر غور کرنا چاہیے اور ہم سب کو یہ بات سوچنی چاہیے کہ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں‘۔

چین نے ایران پر یورینیم کی افزودگی کا عمل نہ روکنے پر پہلے دو مرحلوں میں لگائی جانے والی پابندیوں کی بھی بادلِ ناخواستہ حمایت کی تھی اور تیسسرے مرحلہ میں بھی پابندیوں کے نفاد کے لیے چین اور روس جیسے ممالک کی حمایت نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک ویٹو کا حق رکھتے ہیں۔

ادھر فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر یورینیم کی افزودگی روکنے کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔