ان افراد کا موقف ہے کہ کہ اگر انتظامیہ کی جانب سے جسٹس صدیقی سے زبردستی رہائش گاہ خالی کرانے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کی جائے گی۔مظاہرین نے اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔
ادھر جسٹس شاہد صدیقی کو منگل کی رات دو بجے کے قریب اچانک دل میں تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کو دل میں تکلیف کی شکایت اس وقت ہوئی جب لاہور ہائی کورٹ کی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے حتمی نوٹس کے باعث رات گئے ان کا سامان سرکاری رہائش گاہ سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جارہا تھا۔
جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کے بیٹے سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اپنی ذاتی ضرورت کا سامان کو منتقل کرنا شروع کردیا تاکہ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کے باعث انہیں دقت نہ ہو۔
جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے چند روز قبل سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے کے لیے ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے جاری نوٹس پر از خود کارروائی کرتے ہوئے انہیں توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔تاہم سوموار کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے انہیں گھر خالی کرنے کا حتمی نوٹس دیا گیا تھا اور ان کی رہائش گاہ کے ٹیلی فون کاٹ دیے گئے جبکہ سرکاری اقامت گاہ پر مامور گارڈ اور عملہ بھی واپس بلالیا گیا تھا۔
جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کے بقول انہیں لاہور ہائی کورٹ کی انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ان سے رہائشگاہ بروز طاقت خالی کرائی جائےگی۔
اس سے قبل منگل کی صبح سے رات تک وکلاء ، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ اظہار یکجہتی کے لیے جسٹس صدیقی کے رہائش گاہ پرگئے۔ جسٹس صدیقی سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والوں میں سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس میاں اللہ نواز اور سابق جج لاہور ہائی کورٹ جسٹس جواد ایس خواجہ نمایاں تھے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے جسٹس صدیقی کو اپنی ذاتی رہائش گاہ پر منتقل ہونے کی پیشکش بھی کی۔
یاد رہے کہ سوموار کوبھی وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان رات گئے جسٹس صدیقی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کی سرکاری رہائشگاہ کے باہر جمع ہوگئے تھے اور تمام رات ان کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر گزاری تھی۔
خیال رہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے عدالت عالیہ لاہور کے دو جج جسٹس ایم اے شاہد اور جسٹس اعجاز احمد چوھدری جی او آر لاہور میں واقع سرکاری گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں جنہیں دو دسمبر تک گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔