ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری،مزید ہلاکتیں
ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری،مزید ہلاکتیں
حزب اختلاف کی جماعتوں نے رکن اسبملی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے
نیلوفر ہسپتال میں اتوار کی رات بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب مجلس اتحاد المسلمین نامی ایک علاقائی سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی افسر خان نے اپنے حامیوں کے ساتھ ڈاکٹروں سے مبینہ طور پر ایک بیمار بچے کو دیکھنے میں تاخیر پر مار پیٹ کی تھی۔

ڈاکٹروں نے رکن اسمبلی اور ان کے حامیوں کی بدسلوکی کے خلاف گزشتہ تین دنوں سے احتجاج میں ہڑتال کر رکھی ہے اور وہ رکن اسمبلی افسر خان اور ان کے حامیوں کو ناقابل ضمانت دفعات کے تحت گرفتار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

منگل کو بحران میں اس وقت مزید شدت آگئی جب سیاسی رہنما اور فلم اداکارہ وجے شانتی نے ہسپتال کا دورہ کیا اور ریزیڈینٹ میڈیکل افسران کے خلاف آواز بلند کی جس سے ڈاکٹروں کے درمیان مزید ناراضگی پڑھ گئی ہے۔

منگل کو نیلوفر ہسپتال کے سینئر ڈاکٹروں نے بھی جونیئر ڈاکٹروں کی حمایت میں احتجاج کیا ہے اور اسی طرح کے احتجاج کی خبریں ریاست کے دوسرے علاقوں سے بھی ملی ہیں جس سے ریاست کے دیگر ہسپتالوں میں بھی معمول کا کام متاثر ہو رہا ہے۔

ادھر وزیراعلی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ایک بار پھر جونیئر ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہڑتال ختم کر کے کام پر لوٹ جائیں، کیونکہ حکومت اس معاملے کی تفتیش سی آئي ڈی سے کرانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

موجودہ صورت حال کے پیش نظر حکومت نے نیلوفر ہسپتال سے بہتر علاج اور مناسب دیکھ بھال کے لیے بچوں کو نجی اسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے سبب اموات ہو رہی ہیں جبکہ ہسپتال کے حکام اس الزام کی تردید کر رہے ہيں اور ان کا کہنا ہے’نیلوفر ہسپتال میں صرف نازک مریض ہی آتے ہيں اور یہ اموات معمول کے مطابق ہيں‘۔