رام مندر تحریک کے سبق پر تنازعہ
رام مندر تحریک کے سبق پر تنازعہ
’یہ اسباق سیکولر ازم پر حملہ ہیں‘
انسانی حقوق کے کارکنوں اور مسلم تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے اور اس ضمن میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم آر ایس ایس نے اپنے قدم کو صحیح قرار دیا ہے۔

ریاست میں ودھیا بھارتی سے منسلک سینکڑوں سکولوں میں اخلاقی تعلیم پر مبنی کتاب ’پستک سنسکار سوربھ‘ میں رام مندر تحریک کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اس سبق میں راجستھان کے دو نو جوانوں شرد کمار کوٹھاری اور رام کمار کوٹھاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کار سیوا کے لیے ایودھیا کے گئے تھے۔

کتاب کے مطابق یہ دونوں 30 اکتوبر 1990 کو ایودھیا میں پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئے تھے۔ درجہ پنجم کے لیے منظور اس کتاب میں ’انوٹھا بلیدان‘ (مخصوص شہادت) کے سبق میں ان کوٹھاری برادران کو شہید اور بہادر بتایا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق یہ دونوں کارکن آر ایس ایس کے شاخاوؤں (مراکز) میں جایا کرتے تھے۔

راجستھان یونیورسٹی کے ڈاکٹر راجیو گپتا کہتے ہیں’ یہ قابل مذمت ہے کیونکہ یہ اسباق فرقہ واریت پھیلانے والے ہیں۔ ان کتابوں کے مواد کا نظریہ سائنسی نہیں ہے۔حیرت کی بات ہے کہ مرکز اور ریاست کی حکومتوں کو اس کتاب کے بارے میں پتہ ہے پھر بھی خاموش ہیں۔‘

دوسری جانب آر ایس ایس کے ترجمان کنہیا لال چترویدی کہتے ہیں ’ کتاب میں کچھ بھی غلط نہيں ہے ایودھیا کی رام مندر تحریک ایک قومی تحریک تھی۔ اس میں مارے گئے لوگ شہید ہوئے تھے۔ انہیں یاد کرنا کیسے غلط ہو سکتا ہے۔وہ ہیرو تھے۔‘

جماعت اسلامی ہند کے سلیم انجیئر کہتے ہیں ’ یہ کتاب نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ یہ ہمارے سیکولرازم پر بھی حملہ ہے ۔ ہم سرکار سے مطالبہ کرتے ہيں کہ فوری طور پر ان سکولوں کے خلاف کاروائی کی جائے‘۔ ادھر انسانی حقوق کی کارکن کویتا شریواستو کہتی ہیں’ کار سیوکوں کو شہید بتانا بھگت سنگھ جیسے عظیم شہید کی توہین ہے۔ یہ کتاب بچوں میں نفرت پیدا کرے گی۔‘