انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کے علاوہ علاقے کے عوام کے دیرنہ مطالبات کو حل کرانے پر بھی کام ہورہا ہے اور اس سلسلے میں عوام بہت جلد اہم خوشخبری سنیں گے۔
سرکٹ ہاؤس مینگورہ میں مقامی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا کہ اگر سوات میں ہم چاہتے تو آپریشن زمینی راستے سے شروع کرسکتے تھے لیکن ہم نے عورتوں اوربچوں کو بچانے کےلیے پہاڑوں سے کارروائیوں کا آغاز کیا تاکہ عام لوگوں کا کم سے کم نقصان ہو۔