’ایران سے اب بھی ایک خطرہ ہے‘
’ایران سے اب بھی ایک خطرہ ہے‘
ایرانی ٹیلیوژن نے خفیہ رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس ایران کی فتح قرار دیا
صدر بش کا کہنا تھا کہ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ ایک ’وارننگ سگنل‘ ہے اور میرا یہ نظریہ کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران ایک خطرہ ہوگا، تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران ابھی تک یورنیم کو افژودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنا جوہری پروگرام شروع کر سکتا ہے۔

اس سے قبل ایران نے امریکی خفیہ اداروں کی اس اہم رپورٹ کا خیر مقدم کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اس وقت جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں نہیں ہے۔

خفیہ اداروں کی رپورٹ یا نیشنل انٹیلیجنس ایسٹیمیٹ کا کہنا ہے کہ ایران نے سنہ دو ہزار تین میں اپنے جوہری پروگرام پر کام بند کر دیا تھا۔

تہران نے ہمیشہ کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔لیکن امریکہ اور مغربی ممالک کہتے رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے امریکہ میں رائے کی اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے۔’ہمارا اس رپورٹ کاخیر مقدم کرنا فطری ہے کیونکہ جو ممالک ماضی میں ایران پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں یا غلط فہمیاں پیدا کرتے رہے ہیں، اب اپنے خیالات میں حقیقت پسندانہ انداز میں ترمیم کر رہے ہیں‘۔