’شیئر بازار میں، دہشتگردی کا پیسہ‘
’شیئر بازار میں، دہشتگردی کا پیسہ‘
ممبئی بازار حصص بیس ہزار کے پوائنٹس کو بھی عبور کرچکا ہے
منگل کو ایوان بالا میں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ ’حال ہی میں بازار حصص سے دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کا ایک معاملہ میرے سامنے آیاہے اور اس سلسلے میں تفتیش کی جارہی ہے، اس مرحلے پراس سے زیادہ جانکاری دینا ممکن نہيں ہے‘۔

مسٹر چدمبرم کا یہ بیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان روی شنکر پرساد کے ایک سوال کے جواب میں آیا ہے۔ روی شنکر نے سوال کیا تھا کہ آیا حکومت اس بات سے باخبر ہے کہ بازار حصص میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پیسہ لگایا جارہا ہے؟

مسٹر پرساد نے یہ بھی کہا کہ بازار حصص کے دہشت گردی کے لیے ممکنہ استعمال پر قومی سلامتی کے مشیر آر کے نارائنن نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

اقتصادی تجزیہ کار ایم کے وینو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پی چدمبرم کے تازہ بیان سے بازار حصص میں کوئی منفی اثر نہيں پڑےگا کیونکہ بازار میں ننانوے فیصد پیسہ جائزطریقوں سے آتا ہے اور اس وقت جس طرح عالمی پیسہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں لگایا جا رہے اس سے تھوڑا رسک تو ہر ملک کی معیشت کو رہتاہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ مہینوں میں ممبئی بازار حصص میں زبردست اضافہ درج کیا گيا ہے اور ممبئی بازار حصص بیس ہزار کے نقطے کو بھی پار کرچکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ زیادہ تر غیر ملکی زرمبادلہ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

بازار حصص میں اس تیزی سے وزرات خزانہ فکرمند تھی اور اکتوبر میں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی بازار حصص میں اس اضافے کو اچھاشگون نہيں مانا تھا۔

اس بات کے پیش نظر شیئر بازار میں ملکی سرمایہ کاروں کے مفادات پر نظر رکھنے والے ریگولیٹری ادارے ’سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا‘ نے غیر ملکی زرِمبادلہ پر سختی کی تھی۔