ریاستی پولیس نے یہ معاملہ مقامی سکھ لیڈر راجندر سنگھ بگا کی شکایت پر درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’ریلائنس کمیونیکیشن نے جو ایس ایم ایس جاری کیا ہےاس میں سکھ برادری کا موازنہ گدہوں سے کیا گیا ہے۔‘
لکھنؤ کے ناکہ پولیس تھانے کے ایک انسپکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ دفعہ 295 اے یعنی مذہب کی توہین کرنے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں جرمانے کے ساتھ تین برس کی جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
بی بی سی سے بات چیت میں شکایت کرنے والے راجندر سنگھ بگا نے کہا: ’سکھ برادری ایک بہادر قوم ہے اور۔۔۔ ایس ایم ایس میں اس کی توہین کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ راجندر سنگھ بگا نے خدشہ ظاہر کیا ہے یہ قدم اترپردیش کے امن و امان میں خلل ڈالنے اور وزیر اعلی مایاوتی کو بدنام کرنے کی سازش کاحصہ ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل میرٹھ میں بھی اس ایس ایم ایس کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ سکھ برادری کا کہنا ہے کہ انل امبانی کو اپنی کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ایس ایم ایس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔
اطلاعات ہیں کہ ایس ایم ایس کی شروعات سکھوں کے بارے میں لطیفوں کی ایک ویب سائٹ سے ہوئی تھی۔ لیکن اب اس معاملے میں ایک سیاسی پیچیدگی بھی آگئی ہے۔
جہاں انل امبانی اترپردیش میں حزب اختلاف کی پارٹی سماج وادی پارٹی سے منسلک ہیں وہیں راجندر سنگھ بگا حکمراں جماعت بہوجن سماج پارٹی کے رکن ہیں اور وزیر اعلی مایاوتی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔
وزیر اعلی نے انہیں ریاست اترپردیش کی پنجاب اکاڈمی کا نائب صدر بھی مقرر کر رکھا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ معاملہ درج کرنے سے پہلے اعلی اہلکاروں سے منظوری لے لی گئی تھی۔