یوپی میں ریگنگ پر سخت پابندی
یوپی میں ریگنگ پر سخت پابندی
انڈیا میں یونیورسٹی اور کالجز کے نئے طلباء کی ریگنگ ایک عام بات ہے
پیر کی شام ریاستی کابینہ نے اس بارے میں ایک مجوزہ قانون کی منظوری دی ہے جسے اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔

کابینہ سکریٹری ششانک شیکھر سنگھ نے بتایا کہ نئے قانون کی مطابق کالج کے اندر یا باہر براہ راست یا بالواسطہ طریقہ سے ریگنگ کرنے والے یا اس کو شہ دینے والے شخص کو دو سال کی سزائے قید یا دس ہزار روپئے تک کا جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ مل سکتی ہیں۔

اس قانون میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ تحریری شکایت ملنے پر سات دن کے اندر ادارے کے سربراہ کو معاملے کی تحقیقات کرنی ہوگی۔ ابتدائی تفتیش میں اگر شکایت صحیح پائی گئی تو قصوروار طالب علم کو کالج سے نکال دیا جائےگا اور معاملہ پولیس کے حوالہ کردیا جائےگا۔

کالج انتظامیہ اگر شکایت کونظر انداز کرتی ہے یا سات دنوں تک کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے تو انتظامیہ کو بھی جرم میں شامل سمجھا جائےگا۔

کابینہ سکریٹری نے بتایا کہ اگر ریگنگ کا جرم عدالت میں ثابت ہوتا ہے تو قصوروار طالب علم کے لئے کسی بھی تعلیمی ادارہ کے دروازے اگلے پانچ سالوں تک کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔ ملزم کے سامنے گنجائش ہوگی کہ وہ تیس دنوں کے اندر سزا کے خلاف علاقائی کمشنر کے سامنے اپیل کرسکے۔

بھارت کے انجینئرنگ، میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں ریگنگ کے ذریعہ جونیئر طلباء کو ہراساں کیے جانے کا رجحان عام ہے جس پر سپریم کورٹ بھی روک لگانے کی ہدایت دے چکا ہے۔ لیکن مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔

اترپردیش کے کالجز میں ریگنگ کی وجہ سے کئی بار ایسے حالات پیش آئے ہیں کہ متاثرہ طالب علم نے خودکشی تک کرلی ہے۔ یہ عمل مہاراشٹر کے شہر پونے میں قابل سزا جرم ہے۔ کسی دیگرریاست میں ریگنگ سے نپٹنے کے لئے سخت قانون نہیں نافذ ہے اور کالج انتظامیہ ہی اپنے طریقہ سے اس مسئلہ سے نپٹنے کی کوشش کرتی ہے۔