اس بات کا اعلان جاپانی سائنسدانوں کے تیار کردہ ٹیسٹ میں نوجوان چمپنزیوں کی جانب سے یونیورسٹی طالبعلموں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کے بعد کیا گیا ہے۔اس ٹیسٹ میں سکرین پر نمبر کے مقام کو یاد رکھنا تھا اور پھر یادداشت کے سہارے ان انہیں دوبارہ ترتیب دینا تھا۔
اب تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ چمپنزی انسانی یادداشت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کیوٹو یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر ٹیٹسورو میٹسوزاوا کے مطابق’ کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا کہ ایک پانچ سالہ چمپنزی یادداشت کے امتحان میں انسان سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ’ یہاں ہم نے پہلی بار ہندسوں کے حوالے سے چمپنزی کی غیرمعمولی یادداشت کا مظاہرہ کیا ہے‘۔ اس تجربے کے لیے ڈاکٹر میٹسوزاوا اور ان ٹیم نے چھ چمپنزیوں کا مقابلہ یونرسٹی کے طالبعلموں سے کروایا۔
مقابلے میں شریک چمپنزیوں کو پہلے سے ایک سے نو تک گنتی سکھائی گئی تھی۔
مقابلے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان چمپنزیوں کی یادداشت بڑے چمپنزیوں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے جبکہ یونیورسٹی طلباء نے دونوں قسم کے چمپنزیوں کی نسبت تاخیر سے جوابات دیے۔