یہ کتاب دلی کے ایک اشاعتی گھر نے شائع کی ہے اور اس کے مصنف جی پارتھا سارتھی ہيں۔ یہ کتاب ہندوستان کے آنجہانی صدر ایس رادھا کرشنن کے بارے میں ہے۔
بنگال کے اقلیتی امور کے وزیر عبدالستار نے بتایا کہ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس کتاب پر پابندی لگادے اور دوکانوں سے یہ کتابیں ہٹا لی جائے۔
اقلیتی امور کے وزیر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’پیغمبر محمد کی تصویر نہيں بنائي جا سکتی اس لیے اس کتاب سے مذہبی کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے اور گزشتہ مہینے کے واقعات کے بعد ہم کوئي خطرہ مول نہيں لے سکتے‘۔
کتاب کے ناشر وجے گویل کا کہنا ہے کہ’یہ کتاب ایک ہندوستانی فلسفی کے بارے میں ہے۔ لیکن ہم کسی کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہتے اس لیے کتابوں کی موجودہ نقول ہم واپس لے رہے ہیں اور آئندہ اشاعت میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس میں پیغمبر اسلام کی تصویر نہ ہو‘۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ابھی تک تو نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی مغربی بنگال کی حکومت نے اس حوالے سے ان سے رابطہ قائم کیا ہے۔