آکسفیم کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادویات بنانے والی کمپنیوں نے دواؤں تک رسائی میں معمولی ترقی کی ہے لیکن اس میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوائیں بنانے والے بڑے اداروں نے ان بیماریوں پر بہت کم تحقیق کی ہے جن کا شکار غریب لوگ ہوتے ہیں۔ اور ان کا زیادہ زور اپنی دواؤں کے حقوق کے محفوظ کرنے پر لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے غریب لوگ وہ دوائیں خرید نہیں پاتے جن کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کی پچاسی فیصد آبادی دواؤں مقرر کردہ قیمتوں کی مطابق خریدنے کی سکت نہیں رکھتےاور اس طرح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ہر سال دس لاکھ لوگ ملریا کے باعث مر جاتے ہیں اور ٹی بی سے ہلاک ہونے والوں شرح سالانہ بیس لاکھ ہے۔
غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی فلاحی تنظیم اوکسفیم کا کہنا ہے کہ ضروری ادویات کی قیمتوں کو لوگوں کی قوتِ خرید کے مطابق کم ہونا چاہیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ کمپنیوں نے دواؤں کی مختلف قیمتوں کی پیشکش کی لیکن وہ بھی صرف کسی بیماری کے مشتہر ہونے کے جواب میں کی گئیں۔
رپور ٹ کے مطابق دوا ساز ادارے قابلِ خرید دواؤں کی ترسیل کےلئے بھاری عطیات پر انحصار کرتے ہیں اور انہوں نے ترقی پذیر ممالک میں دواؤں کی ضرورت پر بہت کم تحقیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انیس سو ننانوے اور دو ہزار چار کے درمیانی عرصے میں مارکیٹ میں آنے والی ایک سو تریسٹھ ادویات میں سے صرف تین نئی ادویات ایسی تھیں جو ترقی پذیر ممالک میں پائی جانے والی بیماریوں پر اثر انداز ہوئیں۔
بڑی فارماسوٹیکل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہیں زیادہ قیمتیں رکھنا پڑتی ہیں تاکہ تحقیق اور ترقی پر خرچ کئے جانے والے کروڑوں ڈالرز کا جواز پیش کیا جا سکے۔
ان کا کہنا ہےکہ ڈاکٹرز اور فارماسسٹ کے کمیشن بھی دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن ممالک میں جملہ حقوق زیادہ محفوظ نہیں ہوتے وہاں جعلی دوائیں اور مصنوعات بنتی ہیں۔
لیکن آکسفیم کا کہنا ہے کہ غریب صارفین کی قوتِ خرید کے مطابق دواؤں کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے دواساز نقصان اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سستی ادویات کی خریداری کی بہت زیادہ گنجائش ہوتی ہے لیکن اس صنعت کو ایک مختلف طریقہءکار کی ضرورت ہے جس میں آمدنی میں پائی جانے والی تفاوت کو سمجھا جا سکے۔
آکسفیم کے تحقیقاتی ادارے کے سربراہ سومی دھنرنجن کا کہنا ہے کہ دواساز کمپنیاں بہت محدود سوچ کے ساتھ کام کررہی ہے کیونکہ وہ کم پیداورای لاگت سے تیار ہونے والی دواؤں سے زیادہ منافع حاصل کر رہی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ غریب ملکوں کے لئے کچھ نہیں کر رہی۔