میکسیکو کے مصور روفینو تومایو کی انیس سو ستر میں بنائی گئی پینٹنگ اس کے مالکان کے گودام سے چوری ہو گئی تھی۔ یہ پینٹنگ الزبتھ گبسن نامی خاتون کو کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی اور اس پینٹنگ کی مالیت معلوم ہونے پر الزبتھ نے مالکان کو پینٹنگ واپس کر دی تھی۔ تصویر واپس کرنے پر مالکان نے الزبتھ کو سات ہزار پاؤنڈ انعام دیا تھا۔
پینٹنگ کے مالکان نے یہ تصویر سدبیز میں نیلامی میں انیس سو ستتر میں خریدی تھی اور سدبیز کے نائب صدر آگسٹ یوریب کے مطابق یہ پینٹنگ تصویر ساڑھے چھبیس ہزار پاؤنڈ میں فروخت کی گئی تھی۔
الزیبتھ نے کہا کہ وہ آرٹ کو نہیں سمجھتیں اور ان کی دوست نے دیوار پر ٹنگی پینٹنگ کو دیکھ کر کہا کہ شاید یہ قیمتی پینٹینگ ہو۔ پینٹنگ کے مالکان نے انیس سو اٹھاسی میں چوری ہونے پر حکام کو مطلع کیا تھا۔ اس پینٹنگ کی معلومات انٹر نیٹ پر بھی ڈالی گئی تھی اور امریکہ کا تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس پینٹنگ کی چوری کی تحقیقات اب بھی کر رہا ہے۔