مکالموں کی ادائیگی کا ماہر اداکار، شفیع
مکالموں کی ادائیگی کا ماہر اداکار، شفیع
سن اسی کی دہائی ختم ہوئی تو ڈرامے پر پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئی
میں اس وقت تک دستانے چڑھا چُکا تھااور کنٹوپ پہن رہا تھا۔ ظاہر ہے میں قطعاً اس موڈ میں نہیں تھا کہ اپنی زرِہ بکتر اتار کر پھر سے دفتر میں جاؤں لیکن چپراسی نے بتایا کہ فون پر اداکار محمد علی ہیں۔

انھوں نے مجھے کبھی فون نہیں کیا تھا۔ ٹی۔وی اور فلم انڈسٹری کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور پیشہ ورانہ سطح پر ان دونوں اداروں میں کبھی دوستی کی فضا نہیں رہی۔ اداکار محمد علی سے میرا سرسری سا رابطہ یوں تھا کہ زمانہء طالب علمی میں جب سیاسی ہنگاموں کے باعث تعلیمی ادارے چھ ماہ تک بند رہے تو میں نے آوارہ گردی کےلئے ملتان روڈ کا انتخاب کیا اور اس آوارگی کو ذرا منظم شکل دینے کےلئے ہدایتکار ایس سلیمان کے ساتھ بطور ایک نائب کے کام شروع کر دیا۔ ان دنوں ایس سلیمان دو فلمیں ڈائریکٹ کر رہے تھے جن میں زیبا اور محمد علی مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

اسی باعث اداکار محمد علی میری صورت سے آشنا تھے۔بہر حال محمد علی نے مجھے بتایا کہ ریڈیو پاکستان حیدر آباد کا ایک نوجوان صداکار فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کےلئے لاہور آیا ہوا ہے اور جب تک اسے فلموں میں کام نہیں ملتا آپ اسے ٹی وی پر موقعہ دیجئے۔

اگلے روز محمد علی نے نصرت ٹھاکر اور قنبر علی شاہ کو بھی فون کیا اور اسی نوجوان کی سفارش کی۔ میں یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا کہ سفارشی آدمی کا بوجھ میرے سر سے اُترا، اب کوئی اور پروڈیوسر اس سے نمٹے گا۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ٹیلی ویژن ڈرامے ان دنوں تھوک کے بھاؤ نہیں ہوتے تھے۔ پاکستان میں صرف پی۔ٹی۔وی کی نشریات دیکھی جا سکتی تھیں جہاں ہفتے میں صرف ایک دِن ڈرامہ نشر ہوتا تھا، لیکن کچھ اس اہتمام سے کہ لوگ ساری مصروفیات چھوڑ کے ڈرامہ دیکھنے بیٹھ جاتے تھے۔

محمد علی کے شہر سے آئے ہوئے نوجوان شفیع محمد کو کئی ماہ تک کسی فلم یا ٹی۔وی ڈرامے میں کام نہ مل سکا۔

1977 کے انتخابات کا وقت آن پہنچا۔ سات برس پہلے 1970 میں پاکستان ٹیلی ویژن نے بہترین الیکشن نشریات پیش کر کے بڑا نام کمایا تھا اور عوام توقع کر رہے تھے کہ اس بار بھی پاکستان ٹیلی ویژن انتخابات کے موقعے پر بہترین تفریحی پروگرام پیش کرکے اپنا معیار برقرار رکھے گا۔